ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تبلیغی مرکز کھلوانے کیلئے وقف بورڈ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، مرکزی حکومت کو نوٹس، اگلی سماعت تاریخ 5مارچ

تبلیغی مرکز کھلوانے کیلئے وقف بورڈ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، مرکزی حکومت کو نوٹس، اگلی سماعت تاریخ 5مارچ

Thu, 25 Feb 2021 11:17:38    S.O. News Service

نئی دہلی، 25؍فروری (ایس او نیوز؍یو این آئی)حضرت نظام الدین میں واقع عالمی تبلیغی مرکز کا تالا کھلوانے کیلئے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر عدالت عالیہ (دہلی ہائی کورٹ) نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کی اگلی تاریخ5مارچ مقرر کی ہے - یہ اطلاع دہلی وقف بورڈنے جاری ریلیز میں دی ہے -

جاری ریلیز کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ19فروری کو دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا تھاجہاں لسٹنگ کے بعد آج معاملہ کی سماعت ہوئی اور معاملہ کی سنجیدگی کے پیش نظرعدالت نے مرکزی حکومت کو اس کا موقف جاننے کیلئے نوٹس جاری کردیا-جبکہ سماعت کی اگلی تاریخ5مارچ مقرر کی ہے -

واضح رہے کہ گزشتہ سا ل ہندوستان بھر میں کورونا مرض پھیلنے کے بعد عالمی تبلیغی مرکز میں مذہبی سرگرمیاں بند کرتے ہوئے مرکز پر تالا لگادیا گیا تھا جس کے بعد سے ہی مرکز کے تحت تمام تبلیغی سرگرمیاں بند ہیں اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے قفل بندی ہے جس کی وجہ سے تمام انصاف پسندوں خاص طور پر مسلمانوں میں بے چینی ہے -تبلیغی مرکز کی حمایت میں شروع سے ہی بیباکی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرنے والے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اب اس مسئلہ میں دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور معاملہ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی وقف بورڈ نے پیروی کیلئے اپنے اسٹانڈنگ کونسل وجیہ شفیق کے ساتھ دہلی بار کونسل کے چیئرمین سینئر وکیل رمیش گپتا کو مقرر کیا ہے-

جبکہ دہلی حکومت کی جانب سے بھی سینئر وکیل راہل مہرا نے تبلیغی مرکز کھولے جانے کے حق میں دہلی حکومت کا موقف رکھا-یہ انتہائی حسا س معاملہ آج جسٹس مکتا گپتا کی عدالت میں پیش ہوا جہاں دہلی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل رمیش گپتا،اسٹانڈنگ کونسل وجیہ شفیق دہلی حکومت کی جانب سے سینئر اسٹانڈنگ کونسل راہل مہراحاضر ہوئے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشارمہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل موجود رہے -

تفصیل کے مطابق جیسے ہی معاملہ کی سماعت شروع ہوئی فوراً ہی سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے کہا کہ چونکہ معاملہ انتہائی حساس ہے اس لیئے مرکزی حکومت کو پارٹی بنایا جانا ضروری ہے -دوسری جانب دہلی وقف بورڈ کے وکیل نے اپنا موقف رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرکز کو بند کرتے وقت قانونی ضوابط کی ان دیکھی کی گئی ہے اس لیئے تحقیقاتی افسر(آئی او)کی رپورٹ پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ساتھ ہی وقف بورڈ نے کہاکہ مرکز کی تالابندی پر کافی وقت گزر چکاہے اور کسی مذہبی مقام کو اتنے لمبے وقت کیلئے بلاجواز بند رکھنا انصاف کے خلاف ہے خاص طور پر اس وقت جب تبلیغی مرکز سے متعلق بہت سے مقدمات ختم ہوچکے ہیں -


Share: